خلوت منے سجن کے میں موم کی بتی ہوں
یک پاؤں پر کھڑی ہوں جلنے پرت پتی ہوں
سب نس کھری جلوں گی جاگہ سوں ناہلوں گی
ناجل کو کیا کروں گی اول سوں مدمتی ہوں
ناتن میں حال بلن کا نا دل میں ڈر گلن کا
ناسر میں سد جلن کا تو یو بلاستی ہوں
جلتے کوں نا جلاؤ بجتے کوں آگ لاؤ
بوجوں تو پھر جلاؤ نا یک رتی رتی ہوں
شہ کے ملن کے ماتی ہر نس جلن کوں آتی
سب قد کھرا جلاتی پن آہ نئیں کتی ہوں
میں مست ہوں سجن کی سد بدسٹی ہوں تن کی
اپ عشق کی مدن کی مغرور مدمتی ہوں
جلنے کو نہ ڈروں گی نا جل کو کیا کروں گی
کیوں نہ جلوں مروں گی اول تے عادتی ہوں
رسیا چتر رسیلے بھوگی سو شاہ محمد
مندر منے سجن کی نس جاگتی رہتی ہوں
لطفیؔ ترے جلن کی پاکی کہاں ہے اس میں
جیوں پانچ پانڈواں کی کہتے سو دھرپتی ہوں