उर्दू शायरी · ग़ज़ल

جو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت

جو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت

शायर: مفتوں اورنگ آبادی6 अशआरउपलब्ध: उर्दू

جو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت
نہ دیکھی پھر کبھی جام شراب کی صورت

فجر اٹھا سو ہی آنکھیں ہیں آسماں کی طرف
کہ کب نظر پڑے اس آفتاب کی صورت

وہ جور ناز وہ چین جبیں وہ چور نگاہ
پھرے ہے نظروں میں خانہ خراب کی صورت

نہ ہو کہ تجھ سے رکھیں ہم امید راست رویے
فلک تو آپ ہی ہے انقلاب کی صورت

قدم زمیں پہ دوشالے کا چنٹ لپٹی چال
کبھی تو دید بدید او نقاب کی صورت

عجب نہیں ہے اگر وہاں سے نامہ بر نہ پھرے
اور آگے ایسی ہے کچھ بے جواب کی صورت